Madrassa

مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڈھ (یوپی) الہند

تعارف وخدمات:

سلطنت مغلیہ کے سقوط اور انگریزوں کے ظالمانہ اور جابرانہ قبضہ کے بعد ہمارے وسیع وعریض ملک عظیم ہندوستان سے علوم اسلامیہ کے مراکز پر قدغن لگاکر ضوء اسلام کو ماند کر دیا گیا تھا، حتیٰ کہ وہ شہر دہلی جہاں قندیل ولی الله کی نورانی کرنوں سے پوری فضاء منور تھی وہاں بھی قرآن وحدیث کی کوئی ایک درسگاہ باقی نہیں رہ گئی تھی ان اسباب وعوارض کی بناء پر حجة الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة الله علیہ کی نگاہ بصیرت نے پوری برق رفتاری سے پورے حالات کا معائنہ کرکے مدارس اسلامیہ کے قیام کا فیصلہ کرلیا اس فیصلے کا مظہر اول مادر علمی درالعلوم دیوبند کی شکل میں ظاہر ہوا پھر چند سال نہ گذرے تھے کہ پورے ملک میں مدارس ومکاتب کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا۔(اللّٰہمّ زد فزد)

اسی کی ایک سنہری کڑی ہمارا ادارہ بھی ہے جو انھیں طرح طرح کے حالات مزید بعض طبقہ میں فکری آزادی کی بناء پر شیخ المشائخ علامہ وقت امام المعقول حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری علیہ الرحمہ نے ۱۳۴۹ھ میں مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر کی بنیاد ڈالی۔

مدرسہ ہذا اپنی خصوصیات کے آئینہ میں:

مدرسہ ہذا کے اندر ہر زمانہ میں مستند اساتذہٴ کرام اور وقت کے مشائخ عظام کی نگرانی اور سربراہی رہی جس کیوجہ سے یہاں سے منسلک طلباء علمی تعلق، فکری بلندی اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق وتربیت سے مرقع ومزین رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شرعی لباس میں ملبوس نوجوان کو دیکھ کر علاقہ کے عامی لوگ بھی کھدیا کرتے ہیں کہ لگتاہے کہ اس نوجوان کا تعلق مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سے ہے۔

مدرسہ ہذا نے احقاق حق وابطال باطل کے ایسے نمایاں کارنامے انجام دیئے کہ اس کے نقوش ابتک پائے جارہے ہیں، اور حقیقت تو یہ ہے کہ جب بھی کسی باطل پرست نے حق کے خلاف آواز بلند کی تو یہاں سے منسلک افراد نے اس کا دندان شکن جواب دینا اپنا فریضہ سمجھکر بھر پور تعاقب کیا اسی کی عکاسی شفیق جون پوری نے کچھ اس انداز میں کیا ہے، شعر:

یہ جھوپڑے نہیں ایوان ہیں صداقت کے

یہاں سے قصر فرعونی ہلائے جاتے ہیں

مدرسہ ہذا کی اہم ترین خصوصیت:

مدرسہ ہذا کی اہم ترین خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ ہردور میں علماء ربانیین ،صلحائے امت، اتقیائے زمانہ نے اس ادارہ کی سرپرستی وسربراہی کی بطور خاص چند اسماء رقم کئے جاتے ہیں:

(۱) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمة الله علیہ (۲) شیخ المشائخ بانی مدرسہ حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری علیہ الرحمہ (۳) حضرت اقدس حاجی نذیراحمد صاحب رحمة الله علیہ خلیفہ حضرت پھولپوری (۴) موجودہ وقت میں اس ادارہ کی نظامت علیا کے فرائض انجام دیرہے ہیں شیخ طریقت حضرت مولانا مفتی محمد عبدالله صاحب پھولپوری دامت برکاتہم۔

مدرسہ ہذا ایک نظر میں

مدرسہ ہذا کے شعبہ جات:

(۱) اہتمام (۲) دارالافتاء (۳) تعلیمات (۴) مہمان خانہ (۵) کتب خانہ (۶) کمپیوٹر (۷) ماہنامہ فیضان اشرف (۸) دارالاقامہ (۹) شعبہٴ تنظیم وترقی (۱۰) دعوت وتبلیغ (۱۱) دفتر محاسبی (۱۲) نشرواشاعت (۱۳) مطبخ (۱۴) تعمیرات۔

مدرسہ کے تعلیمی شعبے:

(۱) افتاء(۲)ادب عربی (۳)دورہٴ حدیث شریف (۴) عربی وفارسی (۵) تحفیظ القرآن (۶) تصحیح قرآن (۷) تجوید وقرأت (۸) شعبہ پرائمری (۹) کتابت (۱۰) خطابت۔

تعداد مدرسین وملازمین: ۱۲۰

کل طلباء داخلہ شدہ: ۱۲۳۹

شرکائے مطبخ: ۸۶۰

سالانہ خرچ: ۱۵۶۹۹۴۹۷

دارالحدیث کا خرچ: ۳۸۸۳۹۴۱۲

مدرسہ ہذا اور ذریعہ آمدنی:

مدرسہ ہذا کا ذریعہ آمدنی صرف اور صرف عام الناس کے صدقات وعطیات ہیں اس کے علاوہ مدرسہ کو سرکاری یا کسی خاص مخیر تنظیم یا مدرسہ کی کسی جائداد کے ذریعہ آمدنی بالکل نہیں ہے۔اس لئے ہم اپنے تمام قارئین سے درخواست کرتے ہیں کہ اولاً اس مدرسہ کے لئے اپنی مستجاب دعاوٴں میں یاد رکھیں ، ثانیاً اپنی ہمہ طرح کی توجہات سے صرف نظر نہ فرمائیں۔

مدرسہ ہذا کے اہم منصوبے:

(۱) دارالحدیث کی وسیع وعریض عمارت جو کتب خانہ اور شعبہ جات عربی کی درسگاہوں پر مشتمل ہو (اس عمارت کا کام شروع ہوچکا ہے )

(۲) طلباء کے قیام کے لئے ایک دارالاقامہ جو تقریباً پچاس کمروں پر مشتمل ہو۔

(۳) اساتذہ وملازمین کے لئے رہائشی مکانات کی تعمیر۔

(۴) پانی کی ٹنکی۔

مدرسہ کے معروف ومشہور فیض یافتگان:

حضرت اقدس مولانا عبدالحق صاحب اعظمی شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند

حضرت اقدس مولانا مفتی منظور احمد صاحب قاضی شہر کانپور

شیخ طریقت حضرت مولانا حکیم محمد اخترصاحب پاکستان

حضرت مولانا افتخار احمد صاحب سابق شیخ الحدیث مدرسہ شاہی مرادآباد

حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

حضرت مولانا قاری ابوالحسن صاحب استاذ شعبہ قرأت دارالعلوم دیوبند وغیرہم